Khalid Bin Umar

“سید صاحب کی وجہ سے بڑا اطمینان ہے، جب رات کے دو ڈھائی بجے آنکھ کھلتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ سید صاحب کو بلا کر باتیں کرتا رہوں، لیکن پھر ان کی زحمت کے خیال سے چپ رہتا ہوں

یہ الفاظ ہیں مولانا اشرف علی تھانوی کے اور ممدوح ہیں انہی کے مرید و خلیفہ مولانا سید سلیمان ندوی !

اسی طرح ایک خط میں علامہ اقبال لکھتے ہیں ”مولانا شبلی کے بعد آپ استاذ الکل ہیں ۔ علوم اسلامیہ کی جوئے شیر کا فرہاد آج کل ہندوستان میں سوائے سلیمان ندوی کے اور کون ہے۔“

ہندوستان کے جن علماء پر اہل ہند کو ہمیشہ ناز رہےگا ان میں ایک اہم نام مولانا سید سلیمان ندوی کا ہے !

سید سلیمان ندوی 1884ء میں پٹنہ کے قریب دیسنہ نامی موضع میں پیدا ہوئے، دیسنہ میں سادات کا ایک پرانا خاندان آباد تھا جو اپنی علم دوستی ، ادب نوازی، طبابت و حزاقت ، تقویٰ و دینداری کے لئے اہل بہار کے نزدیک ہمیشہ سے محترم رہا ہے.سید صاحب کا خاندان طبابت میں قدیم زمانے سے بہت معروف تھا. بقول شاہ معین الدین ندوی ، اطراف بہار کا یہ پہلا خاندان ہے جس میں طبابت پشتوں سے چلی اتی تھی

سلسلہ نسب

سید سلیمان ندوی اپنے والد کی طرف سے رضوی اور والدہ کی جانب سے سادات بارہہ کی جاجنیری شاخ سے یعنی زیدی سادات میں سے تھے ، والد کی جانب سے آپ کا سلسلہ نسب 32 واسطوں سے امام علی رضا سے متصل ہو جاتا ہے ، اول اول آپ کا خاندان مشہد میں مقیم رہا پھر وہاں سے ہوتا ہوا پہلے اجمیر میں مقیم ہوا اسکے بعد شمالی ہند میں (غالباً آگرہ ) رہا اور آخر کار عظیم آباد پٹنہ میں دیسنہ نام کے موضع میں اقامت پذیر ہوا۔

سید سلیمان – ابو الحسن ، سید محمدی ، عظمت علی – وجیہ الدین – رجب علی ، محمّد شیر – صدر الدین – سلیمان – عثمان – حسن – شمس الدین – خلیل – عرب ثانی – سید ملک – سید میر – سید محمد – شمس الدین – معین الدین – میر محمد – عرب اول – امیر سید – برہان – احمد – محمد – یوسف -اسحاق – یعقوب – حسن – امام علی رضا رح

آپ کے دادا حکیم سید محمدی کا شمار بہار کے چوٹی کے اطباء میں ہوتا تھا ،طب یونانی میں انکی دو کتابیں قرابادین محمدی، مخزن الحکمة اب تک مخطوطہ کی شکل میں یاد گار ہیں ، طریقت میں حکیم صاحب سہروردیہ سلسلہ میں شاہ محمد نور بہاری کے مرید تھے اور آپ نے سلسلہ سہروردیہ کی اس شاخ کے بزرگوں کے حالات پر ایک رسالہ نور محمدی بھی مرتب فرمایا تھا ۔

سید صاحب کے والد حکیم ابوالحسن بھی ایک بہترین طبیب اور معتبرعالم دین تھے اور بسلسلہ روزگار بحیثیت طبیب خاص اسلام پور نام کی بستی میں اقامت پذیر تھے ، وہاں کے مشہور ابو العلاءی بزرگ شاہ ولایت علی اسلامپوری کے مرید و خلیفہ بھی تھے !

سید سلیمان کے بڑے بھائی جناب سید ابو حبیب دسنوی ، بھوپال کے مشہور نقشبندی بزرگ شاہ ابو احمد رح کے دست گرفتہ تھے اور نہایت درجہ متبع سنّت بزرگ تھے !

سید سلیمان ندوی رح کے علمی اور عملی کمالات کے لئے یہ کئ کتابیں بھی ناکافی ہے ،بہتر ہے کی آپ کی تصنیفات کا براہ راست مطالعہ کیا جائے !

سید سلیمان ندوی کا انتقال 22 نومبر 1953 کو کراچی میں ہوا

رحمتہ اللہ علیہم اجمعین