Khalid Bin Umar

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1703-1762) اور حضرت مولانا فخرالدین چشتی دہلوی (1714-1784) اور حضرت مرزا جان جاناں (1699-1781) رحمة اللہ علیہم اجمعین تینوں کا ایک زمانہ تھا اور تینوں حضرات دہلی میں تشریف رکھتے تھے۔

ایک شخص نے چاہا کہ تینوں حضرات اتفاق سے ایک شہر میں موجود ہیں، ان کا مزاج درویشی معلوم کرنا چاہئے ۔

یہ شخص اول شاہ ولی اللہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا کہ حضرت کل کو آپ کی میرے یہاں دعوت ہے، قبول فرماویں اور نوبجے دن کے غریب خانہ پر خود تشریف لاویں۔ میرے بلانے کے منتظر نہ رہیں۔ شاہ صاحب نے فرمایا بہت اچھا۔ اس کے بعد وہ شخص مولانا فخرالدین صاحب کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا کہ ساڑھے نوبجے میرے بلائے بغیر مکان پر تشریف لاویں اور ماحضر تناول فرماویں۔ یہاں سے اٹھ کر یہ شخص مرزا جان جاناں کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ کاروبار کے سبب حاضر خدمت نہ ہوسکوں گا۔ پورے دس بجے دن کو غریب خانے پر تشریف لے آویں۔ تینوں حضرات نے دعوت قبول فرمائی۔ اور اگلے روز ٹھیک وقت مقررہ پر اس شخص کے مکان پر پہنچ گئے۔

اول نوبجے شاہ صاحب تشریف لائے۔ اس شخص نے ان کو ایک مکان میں بٹھایا اور چلاگیا۔ ساڑھے نوبجے مولانا فخر صاحب تشریف لائے ان کو دوسرے مکان میں بٹھایا۔ پھر دس بجے مرزا صاحب تشریف لائے ان کو تیسرے مکان میں بٹھایا۔ غرض تینوں حضرات علیحدہ علیحدہ مکان میں بٹھائے گئے کہ ایک دوسرے کو اطلاع بھی نہ ہوئی۔ جب تینوں حضرات بیٹھ گئے تو یہ شخص پانی لے کر آیا، ہاتھ دھلائے اور یہ کہہ کر چلاگیا کہ ابھی کھانا لے کر حاضر ہوتا ہوں۔ کئی گھنٹے گزرگئے اوراس شخص نے خبر نہ لی۔ آکر یہ بھی نہ دیکھا کہ کون گیا اور کون بیٹھا ہے۔

جب ظہر کا وقت قریب آگیا اور اس نے سوچا مہمانوں کو نماز بھی پڑھنی ہے۔ تو اول شاہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور شرمندہ صورت بناکر عرض کیا۔ کیا کہوں گھر میں تکلیف ہوگئی تھی اس لئے کھانے کا انتظام نہ ہوسکا۔ دوپیسہ نذر کئے اورکہا ان کو قبول فرمائیے۔ شاہ صاحب نے خوشی سے دو پیسے لے لئے اور فرمایا کیا مضائقہ ہے بھائی گھروں میں اکثر ایسا ہوہی جاتا ہے۔ شرمندہ ہونے کی کوئی بات نہیں۔ یہ فرماکر چل دئیے۔

پھر یہ شخص مولانا فخرالدین صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہی عرض کیا جو وہاں کہا تھا اور دو پیسے نذر کئے۔مولانا نے فرمایا بھائی فکر کی کیا بات ہے اکثر گھروں میں ایسے قصہ پیش آجاتے ہیں اورکھڑے ہوکر نہایت خندہ پیشانی سے تعظیم کے ساتھ رومال پھیلادیا۔ دو پیسے کی نذر قبول فرمائی اور رومال میں باندھ کر روانہ ہوئے۔

دونوں کو رخصت کرکے یہ شخص حضرت مرزا جان جاناں کی خدمت میں پہنچا اور وہی عذر بیان کرکے دو پیسے نذر کئے۔ مرزا صاحب نے پیسے تو اٹھاکر جیب میں ڈال لئے اور پیشانی پر بل ڈال کر فرمایا کچھ مضائقہ نہیں، مگر پھر ہمیں ایسی تکلیف مت دیجیئو۔ یہ فرماکر تشریف لے گئے۔

اس شخص نے یہ قصہ اور بزرگوں سے بیان کیا تو کچھ نے کہا کہ مولانا شاہ فخرالدین صاحب فروتنی و درویشی میں سب سے بڑھے ہوئے ہیں کہ انھوں نے وہ نذر خندہ پیشانی کے ساتھ تعظیم سے کھڑے ہوکر قبول فرمائی اوران سے کم درجہ شاہ ولی اللہ صاحب کا ہے کہ کھڑے تو نہیں ہوئے مگر بخوشی نذر قبول فرمایا۔ اور تیسرے درجہ پر مرزا صاحب ہیں کہ نذر کی مقبولیت کے ساتھ ملال بھی ظاہر فرمایا۔

اور کچھ لوگوں نے کہا کہ بیشک انکساری و عجز میں مولانا فخر الدین دہلوی کا درجہ بڑھا ہوا تھا مگر اصول تربیت و انتظامی امور کے لحاظ سے حضرت میرزا صاحب کا مزاج زیادہ مناسب تھا ۔۔۔۔غرض ہر شخص یا گروہ اپنے میلان و مزاق کے مطابق واقعے سے نتائج اخذ کرتا رہا !

(تذکرة مشائخ چشت ، ارواحِ ثلاثہ و تذکرت الرشید وغیرہ )