اس سال ‘Quit India’ (بھارت چھوڑو) تحریک کے نعرہ کو لگائے ہوئے 75 سال پورے ہوگئے ہیں یہ ملک کی ایسی تحریک  تھی جس نے انگریزوں کو ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کردیا تھا۔ 09 اگست کو بھارت چھوڑو تحریک پورے ملک میں چلی تھی اور 8 اگست ،1942 کو ممبئی کے گولیار ٹینک میدان میں جب بھارتیہ کانگریسی سمیتی نے اس مہم کا اعلان کیا تو پورا ملک اس کے لئے کھڑا ہوگیا تھا۔

جس بھارت چھوڑو تحریک پر پورا ملک متحد ہوگیا تھا آخر وہ نعرہ دیا کس نے تھا؟ دنیا یہی جانتی اور سمجھتی ہے کہ یہ نعرہ مہاتما گاندھی نے ہی دیا تھا، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔

قومی میڈٰیا پر پیش کی گئی حقیقت کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس نعرہ کو لکھنے کا سہرہ مسلمان کانگریسی لیڈر یوسف مہر علی کے سر جاتا ہے۔ وہ چونکہ مہاتما گاندھی سے کافی قریب تھے اس وجہ سے اس مہم سے تھوڑی دیر پہلے ان کی مہاتما گاندھی سے ملاقات ہوئی تھی اور اسی ملاقات میں انہوں نے گاندھی کو اس نعرہ کے بارے میں سجھاؤ دیا تھا جس کو گاندھی نے آمین کہتے ہوئے قبول کیا تھا اور اس وقت یوسف ممبئی کے میئر بھی تھے

اس کا دعویٰ مشہور مصنف گوپال سوامی نے اپنیت اب ‘گاندھی اینڈ ممبئی’ میں لکھا ہے کہ بھارت چھوڑو تحریک کا نعرہ لگانے کے لئے یوسف مہر علی نے ہی گاندھی جی مشورہ دیا تھا اور گاندھی نے اس کو قبول کیا تھا۔

حلانکہ یوسف علی کی جب 1950 میں وفات ہوئی تھی تو پورا ممبئی شہر تھم سا گیا تھا اور ان کے جنازہ کو کاندھا دینے بہت سے غیر مسلم لیڈران سمیت جواہر لعل نہرو بھی پہنچے تھے ، لیکن جب ہندوستان چھوڑو تحریک کا نعرہ لگانے والوں کی 75/سالگرہ اس سال پارلیمان میں منائی گئی تو کسی نے بھی ان کا نام تک نہیں لیا جو کہ بڑے افسوس کا مقام ہے۔

Via : Bhatkallys