Khalid Bin Umar

ایک بار سلطان شیر شاہ سوری کا بیٹا محمد شاہ عادل آگرہ کی گلیوں میں ہاتھی پر سوار ہوکر گھوم رہا تھا ۔ایک گلی سے گزرتے ہوئے اس نے دیکھا کہ ایک حسین وجمیل عورت اپنے گھر کے غسل خانہ میں نہا رہی تھی ۔وہ مہاجن کی بیوی تھی۔ گھر کی چار دیواری نیچی تھی اور محمد شاہ عادل کی نگاہ اس عورت پر ایسی پڑی کہ وہ ہاتھی روک کر وہیں کھڑا ہوگیا ۔اسے شرارت سوجھی اور اس نے پان کا ایک بیڑہ اس کی طرف پھینک کر اسکو اپنی طرف متوجہ کیا۔ عورت حیا دار تھی اور ایک شخص کے سامنے بے پردہ ہونے پر اسے انتہائی دکھ ہوا اور اس نے خودکشی کا ارادہ کر لیا۔ یہ دیکھ کر اسکے شوہر نے اسکو روکا اور کہا کہ وہ شیر شاہ سوری کی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹائے گا

۔ مہاجن نے پان کا وہی بیڑہ اٹھایا اورشیر شاہ سوری کے دربار میں پہنچ گیا۔ دربار لگا ہوا تھا ۔ مہاجن نے جاتے ہی سلطان شیر شاہ سوری کو محمد شاہ عادل کا واقعہ سنا ڈالا ۔ یہ سنتے ہی شیر شاہ سوری کا ہاتھ شمشیرکے دستے پر گیا۔وہ شدت غضب سے بولا” انصاف کا تقاضا ہے کہ محمد شاہ عادل کی نیچ حرکت کا بدلہ اس سے لیا جائے “۔ دربار پر سناٹا چھا گیا۔ اس نے حکم دیا کہ مہاجن اسی ہاتھی پر سوار ہوکرمحمد شاہ عادل کے گھر جائے اور اسکی کی بیوی اسی طرح برہنہ کرکے اس کے سامنے لایا جائے اور یہ مہاجن اس کی طرف بھی پان کا بیڑہ پھینکے۔ یہ حکم سن کر پورا دربار کانپ اٹھا ۔ امراء نے محمد شاہ کی عزت کی حفاظت کے لیے سفارش کی توشیر شاہ سوری نے پوری متانت کے ساتھ جواب دیا ”ناموس مہاجن کی بھی ہے۔سن لوکہ میں ایسے موقع پر کسی کی سفارش قبول نہیں کرتا ۔میری نگاہ میں میری اولاد اور رعایا دونوں مساوی ہیں ۔میری اولاد ایسی گھٹیا حرکت کرے اور میں اس کے ساتھ نرمی کروں ، یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا“۔ مہاجن نے جب عدل وانصاف کایہ فیصلہ سنا تو وہ شیر شاہ سوری کے قدموں میں گرپڑا اور اس نے خود عاجزی اور اصرار کے ساتھ درخواست کی کہ یہ حکم نافذ نہ کیا جائے اور اس نے کہا کہ میں اسے معاف کرتا ہوں۔ شیر شاہ سوری کے اس عدل کا چرچاپوری ریاست میں ہوا اور ان اکابریں اور روسا تک بھی یہ پیغام پہنچ گیا کہ کسی غریب کو خراب کرنے پر کیا سزا ہو سکتی ہے۔