Khalid Bin Umar

حضرت شاہ رکن الدینابو الفتح ملتانی (1251-1335) کو شیخ نظام الدین اولیاء سے بہت محبت تھی اور آپ اپنی حیات میں پانچ بار دہلی تشریف لے گئے.

ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ شیخ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ اپنے خانقاہ کی عمارت تعمیر کروا رہے تھے کہ اچانک شیخ رکن الدین ابو الفتح ملتانی کی آمد آمد کا شور بلند ہوا، آپ نے اسی وقت کھانا تیار کرنے کا حکم دیا اور اپنے دوست احباب کو جمع کرلیا، اتنے میں شیخ رکن الدین پالکی میں سوار ہوکر آپ کے ہاں تشریف لے آئے____(بوقت ملاقات بھی) غالباً وہ مرض اور خاص عذر کی بناء پر پالکی ہی میں بیٹھے رہے، خواجہ نظام الدین اولیاء اور آپ کے دیگر تمام ساتھی بھی پالکی کے اردگرد بیٹھ گئے

باتیں ہو نے لگیں اور مجلس خوب گرم تھی کہ اتنے میں شیخ رکن الدین ابوالفتح کے چھوٹے بھائی شیخ عمادالدین اسماعیل رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ آج بزرگوں کا اجتماع ہے، بہترین موقع ہے لہٰذا اس کو غنیمت تصور کرتے ہوئے آپ حضرات سے کچھ استفادہ کرنا چاہتا ہوں، سوگزارش یہ ہے کہ عرصہ دراز سے میرے دل کے اندر ایک شبہ ہے اور وہ یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے میں راز کیا تھا ؟

شیخ رکن الدین رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس میں غالباً یہ حکمت ہوگی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ کمالات و درجات جو ابھی تک مقدر اور پوشیدہ تھے ان کی تکمیل ہجرت مدینہ پر موقوف تھی یعنی عملی طور پر اصحاب صفہ پر فیضان ظاہر کرنا مقصود ہوگا____اس کے بعد خواجہ نطام الدین نے اپنے حلقہ بگوش لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ فقیر کے خیال میں ہجرت کا راز یہ ہے کہ مدینہ کے وہ فقراء جو مکہ میں آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہیں کرسکتے تھے ان کو اس نعمت عظمیٰ سے مشرف کرنا مقصود تھا

غرض یہ کہ ہر دو بزرگوں کے بیان کا مقصد ایک دوسرے کی عظمت کا اعتراف اور خاطر و تواضع تھی، شیخ رکن الدین کا مطلب یہ تھا کہ ہماری آمد کا مقصد طلب کمال اور حصول فائدہ ہے اور حضرت سلطان جی کا مطلب تکمیل اور فائدہ رسانی تھی، یہ واقعہ سیرالاولیاء میں بھی لکھا ہے۔

شیخ عبد الحق لکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال جو اصحاب صفہ پر موقوف تھا وہ ارشاد و تکمیل ہی تھا جو موجب ثواب اور باعث عالی درجات تھا ان کا اپنا ذاتی کوئی کمال نہ تھا، غرض یہ کہ مطلب دونوں بزرگوں کی باتوں کا ایک ہی ہے۔ واللہ اعلم

اس کے بعد کھانا لایا گیا، کھانے سے فراغت کے بعد محبوب سبحانی نے چند عمدہ قسم کے کپڑوں کے ساتھ سو اشرفیاں ایک ایسے باریک کپڑے میں جس میں سے اشرفیوں کا رنگ باہر سے چمکتا ہوا نظر آ رہا تھا باندھ کر شیخ رکن الدین کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کیں، شیخ رکن الدین نے اس تحفہ کو دیکھ کر فرمایا کہ استٌر ذھبک
( اپنے سونے کو ڈھک لو)

محبوب سبحانی نے جواب میں فرمایا ذھابک مزھبک
(سونا میرا مذہب ہے)

یعنی مال و زر باعث ستر مذہب ہے اور گودڑی درویش کا حال ہے تاکہ وہ (ان دونوں کے ذریعہ) عوام سے پوشیدہ رہ سکے۔

(اس کے بھی) شیخ رکن الدین نے تحفہ قبول کرنے سے پس و پیش کیا تو شیخ نظام الدین اولیاء نے ان کے بھائی شیخ عماد الدین اسماعیل کے حوالہ کردیا۔

اتفاق سے جب محبوب الٰہی بیمار پڑ گئے تو عیادت کے لیے شیخ رکن الدین آپ کے مکان پر تشریف لائے اور فرمایا کہ ہر شخص حج کی سعادت حاصل کرنے کی کوشش اور سعی کرتا ہے اور یہ عشرہ ذی الحجہ ہے میں سعی کرکے شیخ المشائخ کی زیارت کی سعادت سے بہرہ ور ہوا،

شیخ نظام الدین اولیاء کی وفات کے بعد آپ کی نماز جنازہ بھی شیخ رکن الدین ابو الفتح ملتانی نے پڑھائی، بعدہٗ فرمایا کہ تین سال تک ہم کو دہلی میں رکھنے کا راز یہی تھا کہ ہم کو یہ سعادت حاصل کرنی تھی اس کے تھوڑے عرصہ بعد شیخ رکن الدین ابوالفتح اپنے اصلی وطن (ملتان) واپس ہوگئے

رحمتہ اللہ علیہم اجمعین

اخبار الاخیار و سیر الاولیاء وغیرہ